Friday, November 30, 2012

خطبہ حجۃ الودع


9 زوالحجہ 10 ھ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات کے میدا ن میں تمام مسلمانوں سے خطاب فرمایا۔ یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اور اسلام کے سماجی ، سیاسی اور تمدنی اصولوں کا جامع مرقع ہے، اس کے اہم نکات اور ان کے مذہبی اخلاقی اہمیت حسب ذیل ہے۔

 خطبہ

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔
لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔
خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔
لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔
جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچیرا بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا)
اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو ادا کر دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمہارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔
لوگو! تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگر چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔
اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کئے تھے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب تنہا ہے۔
لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمہارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو نمودار نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ، اچھی طرح پہناؤ۔
تمہارے غلام تمہارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔
خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اوران کے حساب خدا کے ذمہ ہے۔
عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔
مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں۔
اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔
میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا 
تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔


اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجمع سے خطاب 
کرتے ہوئے فرمایا:
لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ اے خدا تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔

Saturday, November 17, 2012

ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے
نوٹ: اس ایمیل کو پڑھتے ہوئے کسی لمحے آپکو اپنی آنکھوں میں نمی سی محسوس ہو تو  جہاں اپنی مغفرت کی دعاء کیجئے وہان اس خاکسار کو بھی یاد کر لیجیئے گا۔
دو نوجوان  سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص  کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں یا عمر  یہ ہے وہ شخص!
سیدنا عمر   ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟
یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل  کیا ہے۔
کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟ سیدنا عمر پوچھتے ہیں۔
سیدنا عمر ؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟
وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین،  مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔
کس طرح قتل کیا ہے؟ سیدنا عمر پوچھتے ہیں۔
یا عمر، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے  ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔
پھر تو قصاص دینا  پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔  سیدنا عمر کہتے ہیں۔
 نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کسقدر  شریف خاندان  سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی  معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر  کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر  پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے  پر عمر کو  روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ  قاتل کی حیثیت سے آ  کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔
 وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس  جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔
سیدنا عمر کہتے ہیں: کون تیری ضمانتدے گا کہ تو صحراء  میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟
مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو  ایسا نہیں ہے جو اسکا  نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمےیا  گھر  وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔
کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا  زمین کے ٹکڑے  یا کسی اونٹ کے سودے  کی ضمانت کا معاملہ ہے؟  ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔
اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر سے اعتراض  کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔
محفل میں موجود  صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر   بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت  نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟  یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا  جائے؟  واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!
خود سیدنا   عمر  سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں  ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔
نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔
عمر ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟
ابو ذر غفاری  اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!
سیدنا عمر! کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔
چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔
عمر: جانتے ہو اسے؟
ابوذر: نہیں جانتا اسے۔
عمر: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟
ابوذر: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔
عمر: ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔
امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔
سیدنا عمر سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر  واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر  بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت  شہر میں  (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔
ابو ذر بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمر سوال کرتے ہیں۔
مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذر مختصر جواب دیتے ہیں۔
ابوذر: آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا  ہونے جا رہا ہے؟
یہ سچ ہے کہ ابوذر; سیدنا عمر; کے دل میں بستے ہیں، عمر سے ان کے جسم کا ٹکڑا  مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر; کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں  اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔
مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمر! کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔
عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!
امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو  پرندوں کے چوزوں کی طرح  صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔
سیدنا عمر نے ابوذر کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذر، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟
ابوذر نے کہا، اے عمر، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔
سید عمر نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟
نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔ سیدنا عمر اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔
اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔
اے ابو ذراللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔
اور اے شخص،  اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔
اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔
محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمر کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں۔

Saturday, May 5, 2012

ALL PAKISTANIS SHOULD THINK ABOUT IT


کبھی ہم نے غور کیا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ہمارے ساتھ؟ کبھی زلزلے، کبھی سیلاب، کبھی ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کا عذاب؟

آئیں تھوڑا پس منظر میں جاتے ہیں جہاں ہمارے آباء و اجداد الله سے وعدہ کر رہے تھے کہ اے الله ہمیں ہندو اور انگریز کی دھری غلامی سے نجات دے، ہمیں ایک آزاد ملک دے جہاں ہم تیرے دین کا بول بالا کریں گے۔ تیرے نبی کا دیا نظام قائم کریں ۔ ہم اسلام کے نظام کو قائم کر کے یہاں سے امّت مسلمہ کا احیا کریں گے۔۔ ہم نے نعرے لگائے کہ پاکستان کا مطلب کیا " لا الہ الا اللہ "
الله نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور ہمیں زمین کی حکمرانی دی ۔۔

"قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"سورة الأعراف(129)

پھر اس کے بعد ہم اپنے وعدے سے مکر گئے۔ الله نے کہا کہ

وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ
اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔
سورة الزخرف 84

مگر ہم نے کہا نہی الله آسمانوں کا إله تو ہو گا زمین کا نہی. زمین کے حکمران ہم خود ہیں
"sovereignty belongs to peoples"
یہاں اس کا بنایا قانون مانا جائے گا جو عوام سے ووٹ لے کر حکمران بنتا ہے، حاکمیت صرف اسی کی ہو گی، وہ چاہے خلاف قران قانون بنائے ہم سر تسلیمِ خم کرتے ہیں۔۔ پھر حکمرانوں نے امریکہ کو اپنا إله بنا لیا اور ہم دیکھتے رہے ۔ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں ہم نے انفرادی اور اجتماہی سطح پر وہ وہ جرائم کیے، وہ وہ ظلم کیے جس کی نظیر نہی ملتی۔ ہم نے ہر وہ کام کیا جو اسلام کے خلاف تھا ۔ ہم نے اسلام کا نام لینے والوں پر مساجد میں بمباری کی، ان پر فاسفورس بم پھینکے۔ ہم نے اپنے ملک کے اندر سیاست کے لیے قتل و غارت اور ظلم و ستم کا بازار گرم کیا۔۔

پاکستان بننے سے پہلے ہم الله سے وعدے کرتے تھے کہ "ایک ہوں گے مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے"، اور پاکستان بننے کے بعد ہم نے نیشنلزم کو پروان چڑھایا۔ ہم نے کہا کہ عراقی و افغانی مسلمان سے ہمارا تو کوئی تعلق نہی ہم نے "سب سے پہلے پاکستان" کے نعرے لگائے۔ اور اس تازہ صلیبی جنگ "وار اگینسٹ اسلام" میں صلیبیوں کے "فرنٹ لائن اتحادی" بنے۔ اسلام نے نام پر قائم ہونے والی اس "پاک سر زمین" سے ستاون ہزار بار امریکی طیارے اڑ اڑ کر ہمارے پڑوس میں غریب اور مظلوم مسلمان بچوں کے چیتھڑے اڑاتے رہے اور ہم ڈالر لے کر ناچ گانوں اور فحاشی و عریانی پھیلانے میں مصروف ہو گئے۔۔ آج بھی صلیبی افواج(نیٹو) کا سامان رسد ہماری سرزمین سے، ہماری نگرانی میں جاتا ہے۔ اس سب کے باوجود ہم خود کو اسلام کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں ۔ ہم نے ڈالروں کی خاطر اپنی بیٹیوں کو فروخت کیا ۔۔ اپنے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو ڈرون حملوں میں شہید کروایا۔ ہمارے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔۔۔ ہم نے تو پڑوس کے اسلامی ملک کے سفیر تک تو نہی چھوڑا اسے بھی تمام سفارتی آداب کو بالا طاق رکھتے ہوئے امریکہ کو فروخت کر دیا۔

ھم نے ہر ہر موقع پر الله سے وعدہ خلافی کی، اس کا قوانین کا مذاق اڑایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم پر ایک عذاب نازل ہو رہا ہے۔

وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ
اور ہم چکھاتے رہیں گے ان کو چھوٹے چھوٹے عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے تاکہ یہ لوگ باز آجائیں (اپنی سرکشی سے)
سورة السجدة 21

یہ چھوٹے عذاب ہیں ہمیں جنجھوڑنے کے لیے ، کبھی زلزلہ آ گیا، کبھی سیلاب آ گیا ، کبھی طیارے گرے، کبھی تودے گرے، کبھی ملک دو لخت ہوا، کبھی ہم بوری بند لاش بنے۔ ہم نے اس " الْعَذَابِ الْاَدْنٰى" سے بھی کوئی سبق نہی سیکھا، اب "الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ" سروں پر کھڑا ہے ۔ قوموں پر بڑا عذاب دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کو جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے ۔ یعنی"تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں"۔

کسی نے یہ بقراط سے جاکے پوچھا
مرض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیا کیا
کہا دکھ جہاں میں نہیں کوئی ایسا
کہ جس کی دوا حق نے کی ہو نہ پیدا
مگر وہ مرض جس کو آسان سمجھیں
کہے جو طبیب اس کو ہذیان سمجھیں
دوا اور پر ہیز سے جی چرائیں
یو نہی رفتہ رفتہ مرض کو بڑھائیں
یہی حال دنیا میں اس قوم کا ہے
بھنور میں جہاز آکے جس کا گھرا ہے
کنارہ ہے دور اور طوفان بپا ہے
گماں ہے یہ ہر دم کہ اب ڈوبتا ہے
نہیں لیتے کروٹ مگر اہلِ کشتی
پڑے سوتے ہیں بے خبر اہلِ کشتی

لیکن ہم ابھی تک سو رہے ہیں اور انتظار میں ہیں کہ الله کا حکم آ جائے کہ ہمیں تبدیل کر کے یہاں کسی اور قوم کو آباد کر دیا جائے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا لہذا اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ اگر یہ سچ ہے کہ اللہ نے اس زمین کو کسی خاص مقصد کیلئے وجود بخشا ہے تو اللہ اتنی اہم زمین پر ہم جیسے بزدلوں، خودغرضوں، خواہشات کے غلاموں اور الله کے نافرمانوں کا وجود کبھی برداشت نہیں کریگا۔ پاکستان ضرور باقی رہے گا بلکہ اس کی حدود کشمیر سے لیکر کینیا تک پھیل جائیں گی لیکن یہاں موجود وہ لوگ جو عظیم مقصد کو پورا کرنے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں ان کو مٹادیا جائے گا اور اس ملک کو ایسے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جنہیں دیکھ کر 1947ء کے شہداء کی روحیں خوش ہو اٹھیں گی۔

Wednesday, April 25, 2012

’’توبہ کی فضیلت‘‘


’’توبہ کی فضیلت‘‘


سیدنا اغر بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
’’اے لوگو!اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسی سے مغفرت مانگو،میں بھی ہر روز سو مرتبہ اسکی طرف رجوع کرتا ہوں‘‘
حوالہ:مسلم،کتاب الذکر و الدعاء،باب استحباب الاستغفار و الا ستکثار منہ:
۲۷۰۲
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا :
’’اللہ کی قسم!میں ایک دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے توبہ اور استغفار کرتا ہوں‘‘
حوالہ:بخاری کتاب الدعوات،باب استغفار النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فی الیوم و اللیلۃ:
۶۳۰۷
خادم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ابو حمزہ انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی سواری جنگل میں گم ہونے کے بعد مل گئی ہو(جتنی خوشی اسے ہو گی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں)‘‘بخاری کتاب الدعوات،باب التوبۃ:
۶۳۰۹
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے،اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی سواری جنگل میں گم ہو گئی،جس پر اس آدمی کے کھانے پینے کا سامان تھا،سو وہ اس سے ناامید ہو گیاپھر مایوسی اور نا امیدی کی حالت میں ایک درخت کے سائے تلے لیٹ گیا۔پس جب وہ اس پریشانی میں مبتلا تھاتو ناگہاں اسکی سواری اس کے قریب آکھڑی ہوئی،اس نے سواری کی لگام تھام لی،پھر اس نے فرطِ مسرت سے اس طرح کہہ دیا:’’اے اللہ!تو میرا بندہ ہے اسر میں تیرا رب ہوں۔‘‘اس نے بہت زیادہ خوشی کی وجہ سے غلطی کی(یعنی الٹ کہہ دیا)۔‘‘ مسلم کتاب التوبہ،باب فی الحض توبہ:
۲۷۴۷
سیدنا ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کا گناہگار توبہ کر لے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہگار توبہ کرلے اور یہ اس وقت تک رہے گا جب تک سورج مغرب کی جانب سے طلوع نہ ہو۔‘‘مسلم کتاب توبہ،باب قولہ التوبہ من الذنوب:
۲۷۵۹